زہے نصیب کہ ان کی کوئی خبر آئی

Nadim Ashrafi Burhanpuri

زہے نصیب کہ ان کی کوئی خبر آئی

اندھیرا دور ہوا روشنی نظر آئی

وہ ایک تم جو کبھی وقت پر نہیں آئے

تمہاری یاد ہر اک شام وقت پر آئی

خیال دنیا و عقبیٰ غم وجود و عدم

کئی عذاب لئے عمر مختصر آئی

سنی گئی ہے وہاں پر ہر ایک کی فریاد

بس ایک اپنی صدا تھی جو لوٹ کر آئی

کوئی نہ ایسا تھا جو اپنے ساتھ ہو لیتا

بس ایک دوست تھی تنہائی اپنے گھر آئی

جہاں خود اپنے ہی سائے نے ساتھ چھوڑ دیا

رہ حیات میں ایسی بھی رہ گزر آئی

گناہ کر کے بھی وہ پارسا رہا نادمؔ

تمام تہمت و رسوائی میرے سر آئی