مضطرب اور ہوا ذوق نظر آخر شب
Nafees Ahmad Saharمضطرب اور ہوا ذوق نظر آخر شب
بند امید کے سب ہو گئے در آخر شب
اے اسیران قفس میرے علاوہ تم کو
کوئی دے گا نہ بہاروں کی خبر آخر شب
ہم سے ہوتا بھی علاج دل بیتاب تو کیا
اور بڑھتا ہی گیا درد جگر آخر شب
جو غریبوں کے ہیں ہمدرد انہیں یاد نہیں
کتنے لوگوں کے جلائے گئے گھر آخر شب
زندگی قابل تعظیم بنی دنیا میں
ان کے جلوؤں سے جو ٹکرائی نظر آخر شب
فہم و ادراک کے اجزائے پریشاں کی قسم
رنگ لایا مرے نالوں کا اثر آخر شب
اس طرح بہہ چلے آنکھوں سے مسلسل آنسو
ہو سحرؔ جیسے ستاروں کا سفر آخر شب