محبت باعث دیوانگی ہے اور بس میں ہوں
Qaisar Nizamiمحبت باعث دیوانگی ہے اور بس میں ہوں
کہ اب پیہم عنایت آپ کی ہے اور بس میں ہوں
سکوں حاصل ہے دن میں اور نہ شب کو چین ملتا ہے
کہ اب تو کشمکش میں زندگی ہے اور بس میں ہوں
نہ جانے ماجرا کیا ہے نظر کچھ بھی نہیں آتا
کہ اب حد نظر تک تیرگی ہے اور بس میں ہوں
نہیں ہے آج مجھ کو خدشۂ ظلمت زمانے میں
رخ تاباں کی ان کے روشنی ہے اور بس میں ہوں
قدم کیا ڈگمگائیں گے رہ الفت میں اے ساقی
بہت ہی مختصر سی بے خودی ہے اور بس میں ہوں
ترے نقش قدم پر سر جھکانا کام ہے اپنا
خدا شاہد یہ میری بندگی ہے اور بس میں ہوں
انہیں روداد غم اپنی سناؤں کس طرح قیصرؔ
وہی ان کی ادائے برہمی ہے اور بس میں ہوں