گل میں شفق میں چاند میں تاروں میں کھو گئے
Nadim Ashrafi Burhanpuriگل میں شفق میں چاند میں تاروں میں کھو گئے
وہ ایک آپ ہیں جو ہزاروں میں کھو گئے
اہل وفا کے نام تو زندہ ہیں آج بھی
گو ان کے جسم کب کے مزاروں میں کھو گئے
اہل وفا کے نام تو زندہ ہیں آج بھی
گو ان کے جسم کب کے مزاروں میں کھو گئے
جب دل ملا تو ہم تری یادیں سمیٹ لائے
نظریں ملیں تو تیرے نظاروں میں کھو گئے
خاموش یوں ہوئے ہیں مرے دل میں ولولے
جیسے بگولے راہ گزاروں میں کھو گئے
نادمؔ صدائے دیر و حرم پھر نہ سن سکے
ہم جب سے اپنے دل کی پکاروں میں کھو گئے