دنیا میں ہم سا کوئی سراپا الم نہیں
عنایت اللہ روشن بدایونیدنیا میں ہم سا کوئی سراپا الم نہیں
وہ دن ہی کون سا ہے کہ جو روز غم نہیں
ہر دم ترے مریض کی حالت خراب ہے
درد آج دل میں کل سے زیادہ ہے کم نہیں
کیا غم مجھے مٹائے فلک ڈھونڈھ ڈھونڈ کر
نام اپنا فرد ناموری میں رقم نہیں
گل کھل رہے ہیں آمد فصل بہار ہے
بلبل چہک رہی ہے صریر قلم نہیں
اہل قلم ہوں زیر نگیں ملک نظم ہے
کیوں کر کہوں کہ صاحب طبل و علم نہیں
کیا کیا عزیز خاک ہوئے مل کے خاک میں
لیکن یہاں کسی کا کسی کو بھی غم نہیں
ہوتی ہے غیب سے مری امداد اے فلک
منت کش عنایت اہل کرم نہیں
یاران رفتگاں سے بہت جی کو انس ہے
ملتے اگر مسافر ملک عدم نہیں
گر درد دل یوں ہیں ہے سلامت تو ایک دن
روشنؔ یہ یاد رکھنا کہ دنیا میں ہم نہیں