کہہ رہی ہے ساری دنیا تیرا دیوانہ مجھے
Qaisar Nizamiکہہ رہی ہے ساری دنیا تیرا دیوانہ مجھے
تیری نظروں نے بنا ڈالا ہے افسانہ مجھے
عشق میں اب مل گئی ہے مجھ کو معراج جنوں
اب تو وہ بھی کہہ رہے ہیں اپنا دیوانہ مجھے
درس عبرت ہے تمہارے واسطے میرا مآل
غنچہ و گل کو سنانا ہے یہ افسانہ مجھے
اک نگاہ ناز نے ساقی کی یہ کیا کر دیا
رفتہ رفتہ کہہ اٹھے سب پیر مے خانہ مجھے
تو سراپا نور ہے میں تیرا عکس خاص ہوں
کہہ رہے ہیں یوں ترا سب آئینہ خانہ مجھے
سن رہی تھی شوق سے دنیا جسے اے ہم نفس
یاد ہے ہاں یاد ہے وہ میرا افسانہ مجھے
نور سے بھر پور ہو جاتی ہے بزم آرزو
جب کبھی وہ دیکھتے ہیں بے حجابانہ مجھے
المدد اے زہد بڑھ کر روک لے میرے قدم
تشنگی پھر لے چلی ہے سوئے مے خانہ مجھے
ہم نفس میری تو فطرت ہی ثنائے حسن ہے
عشق کے بندے کہا کرتے ہیں دیوانہ مجھے
مجھ کو قیصرؔ مے کدے سے نکلے اک مدت ہوئی
یاد کرتے ہیں ابھی تک جام و پیمانہ مجھے