وہ زندگی مرے نزدیک زندگی نہ ہوئی

Nafees Ahmad Sahar

وہ زندگی مرے نزدیک زندگی نہ ہوئی

تمام عمر میسر جسے خوشی نہ ہوئی

ہوس پرست نگاہوں نے چشم ساقی سے

ہزار جام پئے دور تشنگی نہ ہوئی

دکھائے اہل سیاست نے سبز باغ مگر

خزاں نصیب بہاروں میں تازگی نہ ہوئی

ہوا کے رخ کو جو پہچاننے سے قاصر ہو

مرے خیال میں وہ چشم آگہی نہ ہوئی

زمانہ لاکھ مخالف رہا بہ فیض طلب

ہمارے ذوق تجسس میں کچھ کمی نہ ہوئی

عدو سے تو نے تعاون تو کر لیا لیکن

کبھی جنوں سے خرد تیری دوستی نہ ہوئی

جو بانٹتا تھا زمانے کو روشنی کل تک

اسی کے گھر میں سحرؔ آج روشنی نہ ہوئی