اب مجھے اپنا بنانے کے لئے مت آنا

Nadim Ashrafi Burhanpuri

اب مجھے اپنا بنانے کے لئے مت آنا

پھر کوئی خواب دکھانے کے لئے مت آنا

ہو جو اجڑی ہوئی دنیا کی تمنا آ جا

خواب رنگین زمانے کے لئے مت آنا

حسب منشا میں بنا لوں گا مقدر اپنا

تو یہ تکلیف اٹھانے کے لئے مت آنا

دل میں تازہ ہیں ابھی تک ترے زخموں کے کنول

گل کوئی اور کھلانے کے لئے مت آنا

تجھ کو جس سمت بھی جانا ہے چلا جا لیکن

ہم سفر مجھ کو بنانے کے لئے مت آنا

خوب جی کھول کے ہنسنا مری بربادی پر

مجھ پہ اب اشک بہانے کے لئے مت آنا

وہ تو خود اپنے کئے پر ہے پشیماں نادمؔ

تم اسے اور ستانے کے لئے مت آنا