تری نظر کے اشاروں کو دلکشی بخشی

Qaisar Nizami

تری نظر کے اشاروں کو دلکشی بخشی

نظر نواز نظاروں کو تازگی بخشی

خزاں کی زد میں ہی اب تک ترا گلستاں تھا

ہمیں نے آ کے بہاروں کو زندگی بخشی

چمن کو ہم نے ہی اپنے لہو سے سینچا ہے

کلی کو ہم نے ہی اک طرز دلکشی بخشی

تری ادا بھی ادا ہے وہ اک قیامت کی

یہ اور بات ہے تاروں کو دلکشی بخشی

ہے زعم چاک گریباں کو اپنی قسمت پر

کہ تم نے کیوں نہ مجال رفو گری بخشی

سنا دو اہل وفا کو یہ فلسفہ قیصرؔ

جنوں نے ہوش کی دنیا کو آگہی بخشی