جو تیرے نقش کف پا پہ چل گئے ہوتے
Nadim Ashrafi Burhanpuriجو تیرے نقش کف پا پہ چل گئے ہوتے
تو مہر و ماہ سے آگے نکل گئے ہوتے
تمہارا نام لبوں پر جو آ گیا ہوتا
تو گرنے والے یقیناً سنبھل گئے ہوتے
ہم اپنے جوش جنوں کو جو ضبط کر جاتے
تو حادثات کے تیور بدل گئے ہوتے
سمجھ سکا نہ کوئی عظمت وفا ورنہ
ہمارے خواب حقیقت میں ڈھل گئے ہوتے
ہماری تشنہ لبی مصلحت سمجھ ورنہ
ہمارے واسطے شیشے پگھل گئے ہوتے
چمن کو خون جگر کون بخشتا نادمؔ
جو ہم بھی جانب صحرا نکل گئے ہوتے