ازل سے بس یہی عالم ہے کیا کیا جائے

Nafees Ahmad Sahar

ازل سے بس یہی عالم ہے کیا کیا جائے

کبھی خوشی ہے کبھی غم ہے کیا کیا جائے

ادب سے جھک کے یہ کہتا ہے آسماں گویا

زمیں کے سامنے سر خم ہے کیا کیا جائے

حیات و موت کی وادی کا فاصلہ یارو

ہر ایک سانس پہ کچھ کم ہے کیا کیا جائے

قریب آ کے وہ معصومیت سے کہتے ہیں

مریض عشق لب دم ہے کیا کیا جائے

نشاط و عیش کے لمحے تمہیں مبارک ہوں

مجھے عزیز شب غم ہے کیا کیا جائے

میں اپنے ڈھنگ سے جینے کا کیوں ہوا عادی

زمانہ اس لئے برہم ہے کیا کیا جائے

تخیلات کی ان سرد وادیوں میں سحرؔ

ردائے فکر و نظر کم ہے کیا کیا جائے