کیفیت دل اور ہے احوال جگر اور

عنایت اللہ روشن بدایونی

کیفیت دل اور ہے احوال جگر اور

اک درد کی صورت ہے ادھر اور ادھر اور

قد سرو ہے گل چہرہ ہے نارنج ہیں پستاں

کیا لطف ہے پھل اور ہے پھول اور شجر اور

ہر عضو بدن ہے ترا نایاب زمانہ

موہوم دہن سے بھی زیادہ ہے کمر اور

شاہوں کو فقیروں پہ شرف ہو نہیں سکتا

ہاں عزت ذاتی ہے جدا عزت زر اور

سختی بھی سہو ظلم بھی اندھیر بھی دیکھو

روشنؔ یوں ہیں دنیا میں کرو چندے بسر اور