جسم اپنا ہے جاں پرائی ہے

Nafees Ahmad Sahar

جسم اپنا ہے جاں پرائی ہے

بات اب کچھ سمجھ میں آئی ہے

سچ کے کہنے میں کیا برائی ہے

ہم نے دانستہ مات کھائی ہے

قربتوں کا گزر گیا موسم

اب تو قسمت میں بس جدائی ہے

زندگی اشک و خوں کے تاجر سے

لذت غم خرید لائی ہے

بارہا اپنے خون سے ہم نے

شمع فکر و نظر جلائی ہے

تشنگی بھوک اشک درد و الم

میری دن بھر کی بس کمائی ہے

صحن‌ گلشن سے پھر نسیم سحرؔ

نکہت گل چرا کے لائی ہے