آتش سوز محبت کو بجھا سکتا ہوں میں
Qaisar Nizamiآتش سوز محبت کو بجھا سکتا ہوں میں
دیدۂ پر نم سے اک دریا بہا سکتا ہوں میں
حسن بے پروا ترا بس اک اشارہ چاہئے
میری ہستی کیا ہے ہستی کو مٹا سکتا ہوں میں
یہ تو فرما دیجئے تکمیل الفت کی قسم
آپ کو کیا واقعی اپنا بنا سکتا ہوں میں
عشق میں روز ازل سے دل ہے پابند وفا
بھولنے والے تجھے کیونکر بھلا سکتا ہوں میں
ہم نفس مطلق بھی طوفان الم کا غم نہیں
بحر کی ہر موج کو ساحل بنا سکتا ہوں میں
بخش دی ہیں عشق نے اس درجہ مجھ کو ہمتیں
زخم کھا کر دل پہ قیصرؔ مسکرا سکتا ہوں میں