ہاں ان سے مری طرز ملاقات الگ ہے

Nadim Ashrafi Burhanpuri

ہاں ان سے مری طرز ملاقات الگ ہے

یہ درد یہ سوزش یہ خلش اور یہ آنسو

جو آپ نے بخشی ہے وہ سوغات الگ ہے

تم سوزش حالات سے کس طرح بچو گے

میں خیر سے جی لوں گا مری بات الگ ہے

ہے جرم یہاں آرزوئے صبح درخشاں

ہر رات سے اے دوست مری رات الگ ہے

کچھ دیر برس کر نہیں تھمتے مرے آنسو

موسم یہ نرالا ہے یہ برسات الگ ہے

وہ دھوپ میں شبنم وہ شرر اور میں پانی

ہے اس کی جدا ہستی مری ذات الگ ہے