نہ گل کھلے ہیں نہ گردش میں جام آیا ہے
Nafees Ahmad Saharنہ گل کھلے ہیں نہ گردش میں جام آیا ہے
یہ کیسا اب کے چمن میں نظام آیا ہے
عمل سے ظرف سے ایثار سے محبت سے
ہمارا دل ہی زمانے کے کام آیا ہے
عطا ہوا ہے جنہیں عزم سرفروشی کا
انہیں کو دار و رسن کا سلام آیا ہے
لباس شرم و حیا نذر مصلحت کر کے
یہ کون دیکھنا بالائے بام آیا ہے
ہم اپنے درد کو بھی درد کہہ نہیں سکتے
کوئی بتائے یہ کیسا مقام آیا ہے
طلسم ٹوٹ گیا ہے سحرؔ جدائی کا
نگاہ مست کا جب بھی پیام آیا ہے