تم مرے خواب پریشاں کا اثر دیکھو تو

Nafees Ahmad Sahar

تم مرے خواب پریشاں کا اثر دیکھو تو

مضمحل سارا گلستاں ہے ادھر دیکھو تو

لب و عارض کی قسم جلوۂ رقصاں کی قسم

کس قدر شوخ ہے وہ رشک قمر دیکھو تو

شدت تشنہ لبی میں در مے خانہ پر

رکھ دیا پھر کسی مجبور نے سر دیکھو تو

تلخیاں بھول کے جذبات پہ قابو رکھ کر

تم خدا کے لئے اک بار ادھر دیکھو تو

کیا ستم اس سے زیادہ کوئی ہو سکتا ہے

موسم گل میں کٹے ہیں مرے پر دیکھو تو

جس سے گمراہ زمانے کو ضیا ملتی ہے

علم و عرفان و ہدایات کا وہ در دیکھو تو

سب پریشاں ہیں یہاں کون کہے ان سے سحرؔ

تم غریبوں کو کبھی ایک نظر دیکھو تو