پڑی جو شعلۂ رخ پر نظر میں آگ لگی

عنایت اللہ روشن بدایونی

پڑی جو شعلۂ رخ پر نظر میں آگ لگی

مثال طور جلا دل جگر میں آگ لگی

زوال اہل ہنر کو ہنر کے ساتھ ہوا

سخن پہ اوس پڑی اور ہنر میں آگ لگی

ہوا عتاب سے سرخ اس نگار کا چہرہ

غضب ہوا کہ دل فتنہ گر میں آگ لگی

بڑے بڑوں کو ہوا‌ و ہوس نے خوار کیا

ہوئے نفاق سے برباد گھر میں آگ لگی

جگر کو سوز نہاں نے جلا دیا روشنؔ

ہوئی جو اشک فشاں چشم تر میں آگ لگی