دل کو پہلے لہو لہو کرنا

Nadim Ashrafi Burhanpuri

دل کو پہلے لہو لہو کرنا

پھر کسی کی تم آرزو کرنا

ہے خزاں آشنا حیات اپنی

کیا تمنائے رنگ و بو کرنا

منزلیں اپنے زیر پا ہوں گی

ہے مگر شرط جستجو کرنا

پہلے دل کو بنا لے آئینہ

بات پھر مجھ سے روبرو کرنا

ان کی آنکھوں کو خوب آتا ہے

بے نیاز خم و سبو کرنا

تاکہ حاصل ہو لذت آزار

کوئی سازش مرے عدو کرنا

یہ کمال سخن ہے اے نادمؔ

بے زبانوں سے گفتگو کرنا