Poetry

Poet
Meter
  1. مانند ہوا پل میں گزر جائے گا کوئیآئے نہ اگر آپ تو مر جائے گا کوئیGhamgeen Qureshi
  2. تقدیر بگڑتی جاتی ہے گو بات بنائے جاتے ہیںوہ اتنا ہی روٹھے جاتے ہیں ہم جتنا منائے جاتے ہیںHabeeb Jaunpuri
  3. جس کا مجھے ارماں ہے وہ اکثر نہیں ملتامیں ہوش میں ہوں اور مجھے گھر نہیں ملتاHabeeb Jaunpuri
  4. شام وعدہ گاہ رونا گاہ ہنسنا دیکھتےآپ تو آئے نہیں ورنہ تماشا دیکھتےHabeeb Jaunpuri
  5. کسی طرح بھی وہ تکمیل مدعا کرتےوفا کی خو جو نہیں تھی تو پھر جفا کرتےHabeeb Jaunpuri
  6. یہ تو ممکن نہ تھا وفا کرتےآپ مل کر بھی مجھ سے کیا کرتےHabeeb Jaunpuri
  7. یہ شان وفا غم کی حکایت سے ملی ہےدولت مجھے یہ درد محبت سے ملی ہےHabeeb Jaunpuri
  8. باتوں میں تھی دلیل حوالہ سخن میں تھاتو تھا تو گفتگو کا مزا انجمن میں تھاHabeeb Jaunpuri
  9. خاک کے ذروں کو تنویر نظر دیتا ہے وہپھول کی پتی کو لوہے کا جگر دیتا ہے وہHabeeb Jaunpuri
  10. خطۂ ارض پہ کیا شان ہے تیری اردوتو مری زیست کا ارمان ہے میری اردوHabeeb Jaunpuri
  11. کھوئے ہوئے ہیں سر کو جھکائے ہوئے ہیں آپجیسے کہ بار عشق اٹھائے ہوئے ہیں آپHabeeb Jaunpuri
  12. یاد ہے آغاز الفت کا زمانہ یاد ہےڈال کر بانہوں میں بانہیں مسکرانا یاد ہےHabeeb Jaunpuri
  13. ان کو احساس غم نہیں ہوتاکیوں یہ احساس کم نہیں ہوتاJagjeewan Lal Asthana sahar
  14. بجھی بجھی سی ہے آنکھوں کی روشنی میریوہ کیا گئے کہ گئی ساتھ زندگی میریJagjeewan Lal Asthana sahar
  15. جب تصور ترا نہیں ہوتازندگی میں مزہ نہیں ہوتاJagjeewan Lal Asthana sahar
  16. زندگی میری کبھی غم سے جدا ہو نہ سکیدرد بڑھتا ہی گیا اور دوا ہو نہ سکیJagjeewan Lal Asthana sahar
  17. شب فراق کو یوں جگمگا رہا ہوں میںبجھا کے شمع کو اب دل جلا رہا ہوںJagjeewan Lal Asthana sahar
  18. لب و نظر کو ترے پیار کی ہنسی نہ ملیکرے جو دل میں اجالا وہ روشنی نہ ملیJagjeewan Lal Asthana sahar
  19. مجھ کو کہتا ہے مسکرانے کوجانے کیا ہو گیا زمانے کوJagjeewan Lal Asthana sahar
  20. مرا غم گسار کوئی نہیں کسی لب پہ آئی دعا نہیںمرے چارہ گر ترے پاس بھی مرے درد دل کی دوا نہیںJagjeewan Lal Asthana sahar
  21. نگاہ و دل کو جلانے کا حوصلہ تو کرواٹھا کے پردے حقیقت کا سامنا تو کروJagjeewan Lal Asthana sahar
  22. نئے شیشے میں اب ڈھل جائے ہر رسم کہن ساقیتجھے دنیا بدلتی ہے مجھے یہ انجمن ساقیJagjeewan Lal Asthana sahar
  23. وقت اپنا ہو تو طوفان و بلا کچھ بھی نہیںبرق گرنے کو گری اور ہوا کچھ بھی نہیںJagjeewan Lal Asthana sahar
  24. آزادیٔ ضمیر ستم گر خرید لیسر نے ہمارے قوت خنجر خرید لیKaifi Sanbhali
  25. اب مرے پاس فقط ڈھال ہے تلوار نہیںمیں زمیں دار کا بیٹا ہوں زمیں دار نہیںKaifi Sanbhali
  26. اپنے سب زخموں پہ ہم سوئے تھے آنسو باندھ کرآ گئیں پروائیاں پیروں میں گھنگرو باندھ کرKaifi Sanbhali
  27. سنبھال قلب و جگر تیغ اٹھا نظر نہ بچاترا گماں یہ غلط ہے کہ کوئی سر نہ بچاKaifi Sanbhali
  28. سینے میں اس چبھے ہوئے خنجر کا شکریہہاں شکریہ عزیز برادر کا شکریہKaifi Sanbhali
  29. شعور و فکر کی گہرائیوں سے ہار گیامیں وہ بدن ہوں جو پرچھائیوں سے ہار گیاKaifi Sanbhali
  30. یوں تو کہنے کو مرے خون کے پیاسے ہیں سبھیسر قلم کون کرے گا کہ نہتے ہیں سبھیKaifi Sanbhali
  31. یوں موسموں کے ساتھ بھی لڑنا ضرور تھالیکن شجر تھا میں تو اجڑنا ضرور تھاKaifi Sanbhali
  32. یہ مت سمجھ کہ چاند ستاروں کے ساتھ ہوںسورج نہیں ہے بعد میں جس کے وہ رات ہوںKaifi Sanbhali
  33. تازہ خبر ملی ہےہتھنی دلہن بنی ہےKaifi Sanbhali
  34. گو آنکھوں سے محروم تھے میرے بابامگر قلب روشن تو تھا پاس ان کےKaifi Sanbhali
  35. ایجاد غم ہوا دل مضطر کے واسطےپیدا جنوں ہوا ہے مرے سر کے واسطےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  36. پھل ہے اس بت کی آشنائی کامجھ کو دعویٰ ہے اب خدائی کامنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  37. دل تنگ اس میں رنج و الم شور و شر ہوں جمعچین آئے خاک گھر میں جب اتنے ضرر ہوں جمعمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  38. سبحہ سے مطلب نہ کچھ زنار سےہیں جدا ہم کافر و دیں دار سےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  39. سر ملا ہے عشق کا سودا سمانے کے لئےآنکھیں دیں انسان کو آنسو بہانے کے لئےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  40. قاتل کے کوچہ میں ہمہ تن جاؤں بن کے پاؤںمر کر ہی تاکہ سو تو ذرا پاؤں تن کے پاؤںمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  41. کچھ غرض وجہ مدعا باعثکیوں خفا ہو گئے ہو کیا باعثمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  42. کہیں کیا کہ کیا کیا ستم دیکھتے ہیںلکھا ہے جو قسمت میں ہم دیکھتے ہیںمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  43. وصل سے تب بھرے ہمارا پیٹپیٹ سے جب ملے تمہارا پیٹمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  44. ہوش و شکیب و تاب و صبر و قرار پانچوںقربان کر چکا ہوں میں تجھ پہ یار پانچوںمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  45. زینت عنواں ہے مضموں عالم توحید کایہ سواد نامہ ہے یا سرمۂ تسخیر ہےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
  46. آنکھوں میں مری پھرتی ہے تصویر کسی کیتصویر میں ہوں میری ہے تصویر کسی کیمردان صفی
  47. اے رشک قمر آگے ترے شمس و قمر کیاسو جاں سے فدا ہوں میں یہ ہے جان و جگر کیامردان صفی
  48. تو ہی ہے مری یہ بود و بقا تو اور نہیں میں اور نہیںدیکھا جو اپنے کو تو ہی ملا تو اور نہیں میں اور نہیںمردان صفی
  49. جشن تجھ کو مرے نو شاہ مبارک ہوئےبزم عشرت تری دل خواہ مبارک ہوئےمردان صفی
  50. جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیںتمہیں تم کو ہم اے صنم دیکھتے ہیںمردان صفی