Poetry
Poet
Meter
- مانند ہوا پل میں گزر جائے گا کوئیآئے نہ اگر آپ تو مر جائے گا کوئیGhamgeen Qureshi
- تقدیر بگڑتی جاتی ہے گو بات بنائے جاتے ہیںوہ اتنا ہی روٹھے جاتے ہیں ہم جتنا منائے جاتے ہیںHabeeb Jaunpuri
- جس کا مجھے ارماں ہے وہ اکثر نہیں ملتامیں ہوش میں ہوں اور مجھے گھر نہیں ملتاHabeeb Jaunpuri
- شام وعدہ گاہ رونا گاہ ہنسنا دیکھتےآپ تو آئے نہیں ورنہ تماشا دیکھتےHabeeb Jaunpuri
- کسی طرح بھی وہ تکمیل مدعا کرتےوفا کی خو جو نہیں تھی تو پھر جفا کرتےHabeeb Jaunpuri
- یہ تو ممکن نہ تھا وفا کرتےآپ مل کر بھی مجھ سے کیا کرتےHabeeb Jaunpuri
- یہ شان وفا غم کی حکایت سے ملی ہےدولت مجھے یہ درد محبت سے ملی ہےHabeeb Jaunpuri
- باتوں میں تھی دلیل حوالہ سخن میں تھاتو تھا تو گفتگو کا مزا انجمن میں تھاHabeeb Jaunpuri
- خاک کے ذروں کو تنویر نظر دیتا ہے وہپھول کی پتی کو لوہے کا جگر دیتا ہے وہHabeeb Jaunpuri
- خطۂ ارض پہ کیا شان ہے تیری اردوتو مری زیست کا ارمان ہے میری اردوHabeeb Jaunpuri
- کھوئے ہوئے ہیں سر کو جھکائے ہوئے ہیں آپجیسے کہ بار عشق اٹھائے ہوئے ہیں آپHabeeb Jaunpuri
- یاد ہے آغاز الفت کا زمانہ یاد ہےڈال کر بانہوں میں بانہیں مسکرانا یاد ہےHabeeb Jaunpuri
- ان کو احساس غم نہیں ہوتاکیوں یہ احساس کم نہیں ہوتاJagjeewan Lal Asthana sahar
- بجھی بجھی سی ہے آنکھوں کی روشنی میریوہ کیا گئے کہ گئی ساتھ زندگی میریJagjeewan Lal Asthana sahar
- جب تصور ترا نہیں ہوتازندگی میں مزہ نہیں ہوتاJagjeewan Lal Asthana sahar
- زندگی میری کبھی غم سے جدا ہو نہ سکیدرد بڑھتا ہی گیا اور دوا ہو نہ سکیJagjeewan Lal Asthana sahar
- شب فراق کو یوں جگمگا رہا ہوں میںبجھا کے شمع کو اب دل جلا رہا ہوںJagjeewan Lal Asthana sahar
- لب و نظر کو ترے پیار کی ہنسی نہ ملیکرے جو دل میں اجالا وہ روشنی نہ ملیJagjeewan Lal Asthana sahar
- مجھ کو کہتا ہے مسکرانے کوجانے کیا ہو گیا زمانے کوJagjeewan Lal Asthana sahar
- مرا غم گسار کوئی نہیں کسی لب پہ آئی دعا نہیںمرے چارہ گر ترے پاس بھی مرے درد دل کی دوا نہیںJagjeewan Lal Asthana sahar
- نگاہ و دل کو جلانے کا حوصلہ تو کرواٹھا کے پردے حقیقت کا سامنا تو کروJagjeewan Lal Asthana sahar
- نئے شیشے میں اب ڈھل جائے ہر رسم کہن ساقیتجھے دنیا بدلتی ہے مجھے یہ انجمن ساقیJagjeewan Lal Asthana sahar
- وقت اپنا ہو تو طوفان و بلا کچھ بھی نہیںبرق گرنے کو گری اور ہوا کچھ بھی نہیںJagjeewan Lal Asthana sahar
- آزادیٔ ضمیر ستم گر خرید لیسر نے ہمارے قوت خنجر خرید لیKaifi Sanbhali
- اب مرے پاس فقط ڈھال ہے تلوار نہیںمیں زمیں دار کا بیٹا ہوں زمیں دار نہیںKaifi Sanbhali
- اپنے سب زخموں پہ ہم سوئے تھے آنسو باندھ کرآ گئیں پروائیاں پیروں میں گھنگرو باندھ کرKaifi Sanbhali
- سنبھال قلب و جگر تیغ اٹھا نظر نہ بچاترا گماں یہ غلط ہے کہ کوئی سر نہ بچاKaifi Sanbhali
- سینے میں اس چبھے ہوئے خنجر کا شکریہہاں شکریہ عزیز برادر کا شکریہKaifi Sanbhali
- شعور و فکر کی گہرائیوں سے ہار گیامیں وہ بدن ہوں جو پرچھائیوں سے ہار گیاKaifi Sanbhali
- یوں تو کہنے کو مرے خون کے پیاسے ہیں سبھیسر قلم کون کرے گا کہ نہتے ہیں سبھیKaifi Sanbhali
- یوں موسموں کے ساتھ بھی لڑنا ضرور تھالیکن شجر تھا میں تو اجڑنا ضرور تھاKaifi Sanbhali
- یہ مت سمجھ کہ چاند ستاروں کے ساتھ ہوںسورج نہیں ہے بعد میں جس کے وہ رات ہوںKaifi Sanbhali
- تازہ خبر ملی ہےہتھنی دلہن بنی ہےKaifi Sanbhali
- گو آنکھوں سے محروم تھے میرے بابامگر قلب روشن تو تھا پاس ان کےKaifi Sanbhali
- ایجاد غم ہوا دل مضطر کے واسطےپیدا جنوں ہوا ہے مرے سر کے واسطےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- پھل ہے اس بت کی آشنائی کامجھ کو دعویٰ ہے اب خدائی کامنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- دل تنگ اس میں رنج و الم شور و شر ہوں جمعچین آئے خاک گھر میں جب اتنے ضرر ہوں جمعمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- سبحہ سے مطلب نہ کچھ زنار سےہیں جدا ہم کافر و دیں دار سےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- سر ملا ہے عشق کا سودا سمانے کے لئےآنکھیں دیں انسان کو آنسو بہانے کے لئےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- قاتل کے کوچہ میں ہمہ تن جاؤں بن کے پاؤںمر کر ہی تاکہ سو تو ذرا پاؤں تن کے پاؤںمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- کچھ غرض وجہ مدعا باعثکیوں خفا ہو گئے ہو کیا باعثمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- کہیں کیا کہ کیا کیا ستم دیکھتے ہیںلکھا ہے جو قسمت میں ہم دیکھتے ہیںمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- وصل سے تب بھرے ہمارا پیٹپیٹ سے جب ملے تمہارا پیٹمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- ہوش و شکیب و تاب و صبر و قرار پانچوںقربان کر چکا ہوں میں تجھ پہ یار پانچوںمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- زینت عنواں ہے مضموں عالم توحید کایہ سواد نامہ ہے یا سرمۂ تسخیر ہےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- آنکھوں میں مری پھرتی ہے تصویر کسی کیتصویر میں ہوں میری ہے تصویر کسی کیمردان صفی
- اے رشک قمر آگے ترے شمس و قمر کیاسو جاں سے فدا ہوں میں یہ ہے جان و جگر کیامردان صفی
- تو ہی ہے مری یہ بود و بقا تو اور نہیں میں اور نہیںدیکھا جو اپنے کو تو ہی ملا تو اور نہیں میں اور نہیںمردان صفی
- جشن تجھ کو مرے نو شاہ مبارک ہوئےبزم عشرت تری دل خواہ مبارک ہوئےمردان صفی
- جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیںتمہیں تم کو ہم اے صنم دیکھتے ہیںمردان صفی