ستم فراق کے صدموں نے اے نگار کیا

عنایت اللہ روشن بدایونی

ستم فراق کے صدموں نے اے نگار کیا

جگر کو خون کیا دل کو داغدار کیا

یہ شعبدے ہیں ترے انقلاب دہر نہیں

ارے فقیر اسے تو نے شہریار کیا

کبھی بہشت کے قابل نہ تھے مرے اعمال

کریم تیرے کرم نے امیدوار کیا

ہزار حیف کہ مرقد پہ بھی ہوا اندھیر

ہوا نے کشتہ چراغ سر مزار کیا

ستم شعار ستم کا خراب ہے انجام

برا کیا ستم اے چرخ اختیار کیا

عدم میں قافلے والے پہنچ گئے روشنؔ

یہ گھر اجاڑ کے آباد وہ دیار کیا