عالم امکاں میں دنیا کی ہوا تھی میں نہ تھا

Qaisar Nizami

عالم امکاں میں دنیا کی ہوا تھی میں نہ تھا

جلوہ آرا صرف ذات کبریا تھی میں نہ تھا

کر دیا بیدار جس نے ساکنان عرش کو

وہ کسی درد آشنا دل کی صدا تھی میں نہ تھا

منتشر جس نے کیا تھا ان کی زلف ناز کو

سچ اگر پوچھو تو وہ باد صبا تھی میں نہ تھا

کھل گیا جو راز الفت آج اہل بزم پر

یہ تمہاری مست نظروں کی خطا تھی میں نہ تھا

تنگ آ کر گردش ایام سے بہر سجود

وہ تو میری زندگی وقف دعا تھی میں نہ تھا

حد سے جب قیصرؔ بڑھی ان کی جفائے ناروا

جو بروئے کار آئی وہ وفا تھی میں نہ تھا