خیال شب کبھی فکر سحر میں رہتا ہے

Nafees Ahmad Sahar

خیال شب کبھی فکر سحر میں رہتا ہے

تمام عمر پرندہ سفر میں رہتا ہے

ملے گا کیا وہ تمہیں عارضی مسرت سے

جو لطف خاص غم معتبر میں رہتا ہے

کسی کو بڑھ کے نہ تم آئنہ دکھا دینا

کہ انتقام کا جذبہ بشر میں رہتا ہے

وہی تو فکر کو دیتا ہے فن کا پیراہن

جو اعتماد کہ دست ہنر میں رہتا ہے

متاع ہوش نہ لٹ جائے دل نہ رک جائے

یہ ڈر سحرؔ ہمیں اپنے ہی گھر میں رہتا ہے