درد پر پیار آیا چوٹ بھی اچھی لگی
Nadim Ashrafi Burhanpuriدرد پر پیار آیا چوٹ بھی اچھی لگی
آج پہلی بار مجھ کو زندگی اچھی لگی
قہقہہ کس نے لگایا میرے حال زار پر
کس کو زیر دام میری بے بسی اچھی لگی
اشک ایسا جگمگایا دیدۂ نمناک میں
چاند تاروں کو بھی جس کی روشنی اچھی لگی
آج پھولوں کا تبسم دل کو کچھ بھایا نہیں
غنچۂ معصوم کی لب بستگی اچھی لگی
میری شوریدہ مزاجی کو دعائیں دے گئے
عقل والوں کو مری دیوانگی اچھی لگی
درد بخشا غم دیا آنسو عنایت کر دئیے
میرے محسن یہ تری دریا دلی اچھی لگی
ہو گیا برباد رسوائے زمانہ ہو گیا
پھر بھی نادمؔ کو تری فتنہ گری اچھی لگی