ایک ہی مضمون کے کتنے ہیں باب

Nafees Ahmad Sahar

ایک ہی مضمون کے کتنے ہیں باب

خون آنسو چیخ وحشت اضطراب

اس طرح چہرے پہ ہے ان کے نقاب

گہن میں ہو جس طرح سے آفتاب

وہ تو کہئے تھا مقدر کا دھنی

ورنہ اس کا وار تو تھا کامیاب

خون ناحق کا ستم ایجاد سے

وقت اک اک بوند کا لے گا حساب

سر چھپانے کو سہارا ڈھونڈئیے

بستیاں آنے کو پھر ہیں زیر آب

ذہن کی گہرائیوں میں جھانک کر

دیکھیے آتا ہے کیسے انقلاب

حسن کے دربار میں دیکھو سحرؔ

آئنہ کرتا ہے کس کو انتخاب