رہو گے بزم ہستی میں یوں ہی بے دست و پا کب تک
Nafees Ahmad Saharرہو گے بزم ہستی میں یوں ہی بے دست و پا کب تک
کرو گے تم زمانے سے مقدر کا گلہ کب تک
نظر سے حسن کا آخر بڑھے گا فاصلہ کب تک
تخیل کا نہ گرد آلود ہوگا آئنہ کب تک
چلے گی صحن گلشن میں تعصب کی ہوا کب تک
رہے گا آدمی کا آدمی دشمن بھلا کب تک
کبھی سوچا بھی دیوانو شب غم راہ منزل میں
سہارا تم کو دے گا ہر قدم پر رہنما کب تک
خوشامد جی حضوری خود فریبی سے چمن والو
رفو کرتے رہو گے چاک دامان قبا کب تک
ارے ناعاقبت اندیش اس موج تلاطم سے
بچائے گا یوں ہی ہر وقت تجھ کو ناخدا کب تک
اسے کچھ مشورہ دیں اہل دانش کس لئے چپ ہیں
سحرؔ دشت تجسس میں رہے سیماب پا کب تک