نظر نواز نظاروں سے بات کرتا ہوں

Qaisar Nizami

نظر نواز نظاروں سے بات کرتا ہوں

سکوں نصیب سہاروں سے بات کرتا ہوں

الجھ رہا ہے جو خاروں میں پھر سے یہ دامن

خزاں بدوش بہاروں سے بات کرتا ہوں

تمہارے عشق میں تم سے جدا جدا رہ کر

غم فراق کے ماروں سے بات کرتا ہوں

ترے بغیر یہ عالم ارے معاذ اللہ

فلک کے چاند ستاروں سے بات کرتا ہوں

وفور اشک سے یہ حال ہو گیا قیصرؔ

یم الم کے کناروں سے بات کرتا ہوں