Poetry
Poet
Meter
- زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میںبے کراں تعبیر ہوگی یہ کہاں سمجھا تھا میںPirzada Qasim
- زندگی کے دامن میں رنگ و نور و نکہت کیاخواب ہی تو دیکھا ہے خواب کی حقیقت کیاPirzada Qasim
- زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کےبس رہے ہیں آنکھوں میں پھر بھی خواب دنیا کےPirzada Qasim
- سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سےحبس جاں نہ کم ہوگا بے لباس ہونے سےPirzada Qasim
- شکست دل میں بھی اک زندگی نظر آئیدیا بجھا تو ہمیں روشنی نظر آئیPirzada Qasim
- عجب ہیں ہم یہ کس کی سعئ لا حاصل پہ روتے ہیںابھی زندہ ہیں اور ناکامیٔ قاتل پہ روتے ہیںPirzada Qasim
- عشق نے ہم کو جنوں آثار ایسا کر دیابستۂ ساحل بھی رکھا اور دریا کر دیاPirzada Qasim
- عیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہےدیے میں اک نئی سی روشنی ہونے لگی ہےPirzada Qasim
- غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیںدرد میں ڈھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیںPirzada Qasim
- کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیااتنا شدید وار تھا مجھ کو یقین آ گیاPirzada Qasim
- کبھی ہوا تو کبھی خاک رہ گزر ہونامرے نصیب میں لکھا ہے در بہ در ہوناPirzada Qasim
- کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاںتمام دوست اجنبی ہیں دوستوں کے درمیاںPirzada Qasim
- کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیاجیسے سبھی گزر گئے جونؔ بھی کل گزر گیاPirzada Qasim
- کوئی ہے جو شکست ضبط غم ہونے نہیں دیتامیں رونا چاہتا ہوں اور وہ رونے نہیں دیتاPirzada Qasim
- گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیںکاش ہم اپنی ہی خواہش کو میسر آ جائیںPirzada Qasim
- لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھیاس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھیPirzada Qasim
- لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہےمیں الگ جاگتا ہوں درد جدا جاگتا ہےPirzada Qasim
- مرا جہاں ابھی میرا جہاں بنا ہی نہیںزمیں بنی ہی نہیں آسماں بنا ہی نہیںPirzada Qasim
- میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتےہمیں وہ یاد کب آیا اسے ہم یاد کیا کرتےPirzada Qasim
- میان کار فن لفظوں کی قسمت جاگ اٹھتی ہےبہت مسرور رہتا ہوں بہت چہرہ سجاتا ہوںPirzada Qasim
- میں کب سے اپنی تلاش میں ہوں ملا نہیں ہوںسوال یہ ہے کہ میں کہیں ہوں بھی یا نہیں ہوںPirzada Qasim
- نظر میں نت نئی حیرانیاں لیے پھریےسروں پہ روز نیا آسماں لیے پھریےPirzada Qasim
- نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہےعذاب جھیل رہا ہوں سخنوری کیا ہےPirzada Qasim
- وہ ایک خواب جو دیکھا گیا تھا عجلت میںاسی کا کرب سمیٹا ہے آج فرصت میںPirzada Qasim
- ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیںوہ درد دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیںPirzada Qasim
- ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاںشام ہوئی تو تھی کہیں صبح ہوئی مگر کہاںPirzada Qasim
- ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کونمیں یاد اس کو کروں اور یاد آئے کونPirzada Qasim
- یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میںاس کو سوچا تو اسے یاد ہی کرتا گیا میںPirzada Qasim
- یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم بیتاب حالت میں رہےبن نہ پائے کچھ بھی لیکن دست قدرت میں رہےPirzada Qasim
- یہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شامجو زخم صبح ملا تھا وہ بھر گیا سر شامPirzada Qasim
- اس روشن صبح کے دامن میںاک سورج قہر کا چمکا تھاPirzada Qasim
- اس صف میں بھی سب دشمن ہیںاس صف میں بھی سب دشمن ہیںPirzada Qasim
- اک کبھی نہ بیتنے والی شباک ہاتھ نہ آنے والا دنPirzada Qasim
- جب راہیں سب مسدود ہوئیںسب نیست ہوئیں نابود ہوئیںPirzada Qasim
- قتل گاہ کی رونقحسب حال رکھنی ہےPirzada Qasim
- وقت رخصت وہ چپ تھیبس ہاتھوں میں گلدستہ تھاPirzada Qasim
- وہ جو زندگی کا قرار تھیوہی صبح نور کہاں گئیPirzada Qasim
- خزاں کی ابتدا سے انتہا تکسارا موسم ہی خزاں ہےPirzada Qasim
- مری بے خواب آنکھوں میںمری ویران آنکھوں میںPirzada Qasim
- بعد ایک مدت کےاجنبی سے چہروں میںPirzada Qasim
- خزاں موسم نہیں ہےایک لمحہ ہے کہ جس کی آرزو میںPirzada Qasim
- سنویہ یاد رکھنے کا ہنر آساں نہیں ہوتاPirzada Qasim
- میرے گھر کے آنگن میں توجانے پہچانے سب موسمPirzada Qasim
- میں بے قیمت تم بے قیمتپھرPirzada Qasim
- تمہیں جفا سے نہ یوں باز آنا چاہیئے تھاابھی کچھ اور مرا دل دکھانا چاہیئے تھاPirzada Qasim
- آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونایاد کر اے دل خاموش وہ اپنا روناAhmad Mushtaq
- اب منزل صدا سے سفر کر رہے ہیں ہمیعنی دل سکوت میں گھر کر رہے ہیں ہمAhmad Mushtaq
- اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیئے جلائیےعشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیےAhmad Mushtaq
- اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیںکون رہتا تھا کہاں یاد نہیںAhmad Mushtaq
- اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھاپھر قدم ہم نے تری راہ گزر پر رکھاAhmad Mushtaq