قتل گاہ کی رونق

Pirzada Qasim

قتل گاہ کی رونق

حسب حال رکھنی ہے

غم بحال رکھنا ہے

جاں سنبھال رکھنی ہے

زور بازوئے قاتل

انتہا کا رکھنا ہے

دشنہ تیز رکھنا ہے

اور بلا کا رکھنا ہے

اور کیا مرے قاتل

انتظام باقی ہے

کوئی بات ہونی ہے

کوئی کام باقی ہے

وقت پر نظر رکھنا

وقت ایک جادہ ہے

ہاں بتا مرے قاتل

تیرا کیا ارادہ ہے

وقت کم رہا باقی

یا ابھی زیادہ ہے

میں تو قتل ہونے تک

مسکرائے جاوں گا