بعد ایک مدت کے
Pirzada Qasimبعد ایک مدت کے
اجنبی سے چہروں میں
خواب خواب آنکھوں میں
درد کی سماعت میں
بے دلی کی ساعت میں
ایک اجنبی صورت
آشنا نظر آئی
خواب خواب آنکھوں میں
روشنی سی لہرائی
درد کی سماعت نے
دل کی کچھ خبر پائی
اس نے گرم جوشی سے ہاتھ بھی ملایا تھا
بعد ایک مدت کے میں بھی مسکرایا تھا
اس نے میرے شانے کو چوم ہی لیا آخر
میں بھی ایک لمحے کو جھوم ہی لیا آخر
آؤ اک ذرا سی دیر لان ہی میں ٹہلیں گے
جو بھی کہنا سننا ہے ہو سکا تو کہہ لیں گے
شاید ایک مدت کی بیکلی بھی کل پائے
اور ہماری قسمت سے چاند بھی نکل آئے
اک اداس سناٹا اور شب زمستاں کی
بے سخن کہی ہم نے بات درد پنہاں کی
چاند نے بھی چپکے سے کچھ کہا تو تھا ہم سے
میرے الجھے بالوں سے اس کی زلف برہم سے
وہ تھی چاند تھا میں تھا
یوں تو کتنے چہرے تھے
اپنی ذات کے اندر
ہم سبھی اکیلے تھے
سرد سرد اک چہرہ
زرد زرد اک چہرہ
گرد گرد اک چہرہ
درد یافتہ چہرے ہجر یافتہ چہرے
جیسے رو بہ رو اپنے آئینے سے رکھے تھے