اس روشن صبح کے دامن میں

Pirzada Qasim

اس روشن صبح کے دامن میں

اک سورج قہر کا چمکا تھا

اک تارا جی کا نغمہ تھا

جو وادی وادی گونجا تھا

اک پروائی تھی وحشت کی

اک فطرت کا نقارا تھا

نادیدہ تھا وہ دست اجل

جو دشت و جبل لرزاتا تھا

اور پاؤں تلے سے دھرتی کو

بے وہم و گماں سرکاتا تھا

اک کھیل رہا کچھ لمحوں کا

کچھ لمحے تھے جو آئے گئے

سب نوحے نیست کے نوحے تھے

نابود کی تال پہ گائے گئے

بستی اور بستی والے سب

ملبے کے تلے دفنائے گئے

اب جھیلنے والے جھیلیں گے

جو دکھ ہے بچھڑنے والوں کا

اک آگ فراق کی دہکی ہے

یہ رستہ ہے انگاروں کا

بس اس پر چلنا اور جلنا

مقدور ہے غم کے ماروں کا

لیکن یہ رنگ بدلتے دن

لیکن یہ بھید بھری دنیا

اسی راکھ سے خاک سے ابھرے گی

کونپل کے سمان ہری دنیا

یہ وقت عجب مداری ہے

سو کھیل تماشے لاتا ہے

اک منظر ہنسنے والا ہے

اک منظر خون رلاتا ہے

اور وہ جو سب کا والی ہے

ہر منظر دیکھے جاتا ہے