وہ جو زندگی کا قرار تھی
Pirzada Qasimوہ جو زندگی کا قرار تھی
وہی صبح نور کہاں گئی
وہ جو خواب ناز تھے کیا ہوئے
مئے پر سرور کہاں گئی
وہ جو انتظار قرار تھا
وہی انتظار رار ہے
وہ دکھن ہے دل میں نہاں ابھی
دل ناصبور کہاں گئی
وہی تیرگی کا حصار ہے
شب و روز پر مہ و سال ہے
ہے جوار قلب پہ تیرگی
ابھی دل سے دور کہاں گئی
مرے شہریار تری سماعت شوق بیش
مگر یہاں
وہ ہے کون جس نے فغاں نہ کی
پہ ترے حضور کہاں گئی
یہاں اب مآل گزشتہ شب
نئی ایک شب کا نفاذ ہے
وہ جو صبح فردا کی آرزو تھی
تھکن سے چور کہاں گئی
اسی تیرگی میں یہ نور کی
جو لکیر پھوٹی ہے آہ سے
عجب ایک منظر جاں فزا
کہ گزر رہا ہے نگاہ سے
ابھی کون قریۂ جاں سے
سوئے عدم گئے ہیں لہو لہو
کہ عجب چراغ سے جل اٹھے
سر قتل گاہ گلو گلو
اسی روشنی میں تمام چہرے
کہ آئے جاتے ہیں رو بہ رو
کوئی سر کشیدہ و خندہ زن
کوئی سر خمیدہ سیاہ رو