Poetry
Poet
Meter
- نہ کوئی نام و نسب ہے نہ گوشوارہ مرابس اپنی آب و ہوا ہی پہ ہے گزارہ مراSaleem Kausar
- وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہواانہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہواSaleem Kausar
- وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کیاس کو سوچا ہی نہیں جس سے محبت نہیں کیSaleem Kausar
- وہ جو آئے تھے بہت منصب و جاگیر کے ساتھکیسے چپ چاپ کھڑے ہیں تری تصویر کے ساتھSaleem Kausar
- وہ جو ہم رہی کا غرور تھا وہ سواد راہ میں جل بجھاتو ہوا کے عشق میں گھل گیا میں زمیں کی چاہ میں جل بجھاSaleem Kausar
- یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہےدل میں یاد پھر آنکھوں میں مہتاب کہاں رکھنا ہےSaleem Kausar
- یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںوہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیںSaleem Kausar
- تم بھی مجھ سے سارے رشتے توڑ چکی تھیںمیں نے بھی اک دوسرا رستہ دیکھ لیا تھاSaleem Kausar
- دیکھو باہر آگ لگی ہےدروازے پر نئی رتوں کی خوشبو روتی ہےSaleem Kausar
- آؤ کمرے سے نکلتے ہیں کہیں چلتے ہیںروزن حبس میں ٹھہری ہوئی زنداں کی ہواSaleem Kausar
- تم ہی اچھے تھے کسی سے کبھی تکرار نہ کیتم کہ تکرار کے خوگر بھی نہ تھےSaleem Kausar
- سال کی آخری شبمیرے کمرے میں کتابوں کا ہجومSaleem Kausar
- سمندر چاندنی میں رقص کرتا ہےپرندے بادلوں میں چھپ کے کیسے گنگناتے ہیںSaleem Kausar
- ابھی ابھی اک ہوا کا جھونکاجو تیرا لہجہSaleem Kausar
- اسے کہناکبھی ملنے چلا آئےSaleem Kausar
- امن کی چادر میںبارود اور مہلک ہتھیاروں کی گٹھڑی باندھ کےSaleem Kausar
- بام و در چپ سادھ چکے ہیںطاق میں اک مٹی کا دیا اندھیاروں سے باتیں کرتا ہےSaleem Kausar
- تمہیں خبر ہے کہا تھا تم نےمیں لفظ سوچوں میں لفظ بولوں میں لفظ لکھوںSaleem Kausar
- ٹوٹے پھوٹے وعدوں سےخوش فہمیوں کا کشکول سجائےSaleem Kausar
- جو تو تصویر کرتا ہےجو میں تحریر کرتا ہوںSaleem Kausar
- صبح سویرے سڑکوں پر جاتے اونٹوں کے گلے میںبولتی گھنٹی کی آواز ہوا کے تیروں سے زخمی ہےSaleem Kausar
- عظیم ماںتو نے اپنے بیٹوں کوSaleem Kausar
- محبت ڈائری ہرگز نہیں ہےجس میں تم لکھوSaleem Kausar
- میری ننھی بچی مجھ سے کہتی ہےابو رات گئے تک آخر جاگتے کیوں ہوSaleem Kausar
- وہی کار دنیاوہی کار دنیا کے اپنے جھمیلےSaleem Kausar
- ہوا بند ہےسانس آتی نہیںSaleem Kausar
- بہت دنوں میں کہیں ہجر ماہ و سال کے بعدرکا ہوا ہے زمانہ ترے وصال کے بعدSaleem Kausar
- زوروں پہ سلیمؔ اب کے ہے نفرت کا بہاؤجو بچ کے نکل آئے گا تیراک وہی ہےSaleem Kausar
- سائے گلی میں جاگتے رہتے ہیں رات بھرتنہائیوں کی اوٹ سے جھانکا نہ کر مجھےSaleem Kausar
- وہ جن کے نقش قدم دیکھنے میں آتے ہیںاب ایسے لوگ تو کم دیکھنے میں آتے ہیںSaleem Kausar
- آواز میں آواز ملاتے ہی رہے ہمروتی ہی رہی روح سو گاتے ہی رہے ہمPirzada Qasim
- اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گیبیچوگے اگر خواب تو قیمت نہ ملے گیPirzada Qasim
- اٹھ رہا ہے آشیانوں سے دھواں دیکھے گا کونہے مگر تعبیر خواب رائیگاں دیکھے گا کونPirzada Qasim
- اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئےکہ فنکارانہ روتے تھے مگر آنسو نکل آئےPirzada Qasim
- اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیراب کوئی خواب بھی دیکھے نہ اجازت کے بغیرPirzada Qasim
- اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائےیعنی اب جرم اسیری کی سزا دی جائےPirzada Qasim
- ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئیپھر وہی صبح آئے گی پھر وہی شام آ گئیPirzada Qasim
- بے دلی سے ہنسنے کو خوش دلی نہ سمجھا جائےغم سے جلتے چہروں کو روشنی نہ سمجھا جائےPirzada Qasim
- جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہےزندگی ہی کیا اب تو خواب تک پریشاں ہےPirzada Qasim
- جیسے یاد انبساط و غم شکیبائی کے بعددیر تک روتے رہے ہم بزم آرائی کے بعدPirzada Qasim
- چاند بھی بجھا ڈالا دل دکھانے والوں نےکچھ اٹھا نہیں رکھا دل دکھانے والوں نےPirzada Qasim
- چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیےجو بجھ گیا تو سحر نما ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیےPirzada Qasim
- حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھوتم کسی دوسرے پیکر میں بھی ڈھل کر دیکھوPirzada Qasim
- خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہمخاکساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہمPirzada Qasim
- خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہوہم نہ کہتے تھے کہ ہاں رنجش بے جا کیوں ہوPirzada Qasim
- خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہواپھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہواPirzada Qasim
- درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائےیعنی دل کی دھڑکن پر غور کر لیا جائےPirzada Qasim
- دل اگر کچھ مانگ لینے کی اجازت مانگتایہ محبت زاد تجدید محبت مانگتاPirzada Qasim
- روح گر نوحہ کناں ہو تو غزل ہوتی ہےدل کو احساس زیاں ہو تو غزل ہوتی ہےPirzada Qasim
- زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرودوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کروPirzada Qasim