خزاں کی ابتدا سے انتہا تک

Pirzada Qasim

خزاں کی ابتدا سے انتہا تک

سارا موسم ہی خزاں ہے

گزرتے جا رہے ہیں جتنے لمحے سب خزاں ہیں

مگر وہ نیم جاں پتہ

جسے پہلی ہی پروائی کے پہلے سرد جھونکے نے

سمیٹا ہے

نئے اک ٹوٹتے پتے سے سرگوشی میں کہتا ہے

خزاں تو جا چکی تھی