خزاں موسم نہیں ہے

Pirzada Qasim

خزاں موسم نہیں ہے

ایک لمحہ ہے کہ جس کی آرزو میں

سبز پتے

ہوا کی آہٹوں پر کان دھرتے ہیں

گزرتے وقت میں ساعت بہ ساعت

نئے پیراہنوں میں

گلابی اور گہرے سرخ عنابی

دہکتے خوش نما رنگوں سے لے کر زرد ہونے تک

کبھی دھیمے کبھی اونچے سروں میں بات کرتی

خوشبوؤں میں بس بسا کر

ہوا کے ساتھ محو رقص ہونا چاہتے ہیں

زمیں کا رزق بن جانے سے پہلے

وہی اک اجنبی وارفتگی اور رقص کا لمحہ

کہیں پر دور آئندہ کے موسم کی سماعت میں

کسی سوئے ہوئے اک بیج میں

خواہش نمو کی سر اٹھاتی ہے

بہت ہی پیار سے ہر شاخ کے پتے سے کہتی ہے

کہ اب رزق زمیں بن کر

کسی اک نرم کونپل کی نمو کا آسرا بن جا

خزاں موسم نہیں ہے

اک مسرت خیز تخلیق‌‌ عمل کا آسرا ہے