Poetry
Poet
Meter
- ہم نے خود اپنی محبت کا گلا گھونٹ دیادل سے اٹھتی ہوئی چاہت کا گلا گھونٹ دیاDard Faiz Khan (b. 2003)
- ہنر جب فن میں ڈھلتا ہے بڑی تکلیف ہوتی ہےرگوں کا خون جلتا ہے بڑی تکلیف ہوتی ہےDard Faiz Khan (b. 2003)
- بغیر زیوروں کے بھی حسین ہے یقین ہےوفا جو اوڑھ لے وہ نازنین ہے یقین ہےLankesh Gautam (b. 2003)
- پہلے تو اپنے حسن سے گھایل کیا مجھےمرہم لگا کے بعد میں پاگل کیا مجھےLankesh Gautam (b. 2003)
- جیسے ہی اس نے پوچھا کہ رشتہ قبول ہےیک دم مری زبان سے نکلا قبول ہےLankesh Gautam (b. 2003)
- دیمک تیرے فراق کی کھاتی رہی مجھےرہ رہ کے تیری یاد ستاتی رہی مجھےLankesh Gautam (b. 2003)
- محبت کے نشہ میں چھن چھنن کرتے ہوئے کنگنترے ہاتھوں میں آ کر اور بھی مہنگے ہوئے کنگنLankesh Gautam (b. 2003)
- اگر وہ چاہنے کا من بناتاقسم سے میں اسے دلہن بناتاAakash Atharv (b. 2003)
- بھلے ہی دیر سے تم سے کیا اظہار شہزادیمگر بچپن سے کرتے ہیں تمہیں سے پیار شہزادیAakash Atharv (b. 2003)
- پہلے پہل تو مجھ کو ہچکی آتی تھیبعد میں تیرے نام کی چٹی آتی تھیAakash Atharv (b. 2003)
- تمہارے نام کا سکہ اچھال سکتا ہوںتمہیں سلیقے سے میں دیکھ بھال سکتا ہوںAakash Atharv (b. 2003)
- اجل کے ساتھ چلے ہیں یوں انتظار کے بعدوفا کے قحط پڑیں گے وفا شعار کے بعدVicky Malik (b. 2003)
- ناؤ کاغذ کی سہی کچھ تو نظر سے گزرےاس سے پہلے کہ یہ پانی مرے سر سے گزرےSaadullah Kaleem (b. 2004)
- جراحتوں کی مہک ہے فضا کے دامن میںہزار پھول کھلے ہیں صبا کے دامن میںEhsan Nanparwi (b. 2010)
- لائی تھی خلوت سے دل کی نا شکیبائی مجھےبزم میں بھی ہے وہی احساس تنہائی مجھےEhsan Nanparwi (b. 2010)
- لہو کا ایک چھلکتا ہوا ایاغ لیےحیات آئی ہے محرومیوں کا داغ لیےEhsan Nanparwi (b. 2010)
- مرے جنوں کو ہے طوفان رنگ و بو کی تلاشفروغ آتش گل کو مرے لہو کی تلاشEhsan Nanparwi (b. 2010)
- نسیم صبح تو کیا تند خو ہوا بھی نہیںیہ کیا ستم ہے کہ وہ مجھ سے اب خفا بھی نہیںEhsan Nanparwi (b. 2010)
- یہ بات کون سمجھتا غم آشنا کے سواحیات کچھ بھی نہیں ہے تری رضا کے سواEhsan Nanparwi (b. 2010)
- اچھا ہوا کہ میرا نشہ بھی اتر گیاتیری کلائی سے یہ کڑا بھی اتر گیاMunawwar Rana
- اچھی سے اچھی آب و ہوا کے بغیر بھیزندہ ہیں کتنے لوگ دوا کے بغیر بھیMunawwar Rana
- الماری سے خط اس کے پرانے نکل آئےپھر سے مرے چہرے پہ یہ دانے نکل آئےMunawwar Rana
- انا ہوس کی دکانوں میں آ کے بیٹھ گئیعجیب مینا ہے شکروں میں آ کے بیٹھ گئیMunawwar Rana
- ایسا لگتا ہے کہ کر دے گا اب آزاد مجھےمیری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھےMunawwar Rana
- بادشاہوں کو سکھایا ہے قلندر ہوناآپ آسان سمجھتے ہیں منور ہوناMunawwar Rana
- بلندی دیر تک کس شخص کے حصے میں رہتی ہےبہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرے میں رہتی ہےMunawwar Rana
- بھلا پانا بہت مشکل ہے سب کچھ یاد رہتا ہےمحبت کرنے والا اس لیے برباد رہتا ہےMunawwar Rana
- پھر سے بدل کے مٹی کی صورت کرو مجھےعزت کے ساتھ دنیا سے رخصت کرو مجھےMunawwar Rana
- پیروں کو مرے دیدۂ تر باندھے ہوئے ہےزنجیر کی صورت مجھے گھر باندھے ہوئے ہےMunawwar Rana
- تمہارے جسم کی خوشبو گلوں سے آتی ہےخبر تمہاری بھی اب دوسروں سے آتی ہےMunawwar Rana
- تھکن کو اوڑھ کے بستر میں جا کے لیٹ گئےہم اپنی قبر مقرر میں جا کے لیٹ گئےMunawwar Rana
- جدا رہتا ہوں میں تجھ سے تو دل بے تاب رہتا ہےچمن سے دور رہ کے پھول کب شاداب رہتا ہےMunawwar Rana
- چلے مقتل کی جانب اور چھاتی کھول دی ہم نےبڑھانے پر پتنگ آئے تو چرخی کھول دی ہم نےMunawwar Rana
- چھاؤں مل جائے تو کم دام میں بک جاتی ہےاب تھکن تھوڑے سے آرام میں بک جاتی ہےMunawwar Rana
- خفا ہونا ذرا سی بات پر تلوار ہو جانامگر پھر خود بہ خود وہ آپ کا گلنار ہو جاناMunawwar Rana
- خود اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہا ہوںلے دیکھ لے دنیا میں پتا کاٹ رہا ہوںMunawwar Rana
- خون رلوائے گی یہ جنگل پرستی ایک دنسب چلے جائیں گے خالی کر کے بستی ایک دنMunawwar Rana
- دریا دلی سے ابر کرم بھی نہیں ملالیکن مجھے نصیب سے کم بھی نہیں ملاMunawwar Rana
- دنیا تری رونق سے میں اب اوب رہا ہوںتو چاند مجھے کہتی تھی میں ڈوب رہا ہوںMunawwar Rana
- دہرا رہا ہوں بات پرانی کہی ہوئیتصویر تیرے گھر میں تھی میری لگی ہوئیMunawwar Rana
- ساری دولت ترے قدموں میں پڑی لگتی ہےتو جہاں ہوتا ہے قسمت بھی گڑی لگتی ہےMunawwar Rana
- صحرا پسند ہو کے سمٹنے لگا ہوں میںاندر سے لگ رہا ہے کہ بٹنے لگا ہوں میںMunawwar Rana
- صحرا پہ برا وقت مرے یار پڑا ہےسب رونق صحرا تھی اسی پگلے کے دم سےMunawwar Rana
- عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہئےآپ کو چہرے سے بھی بیمار ہونا چاہئےMunawwar Rana
- کالے کپڑے نہیں پہنے ہیں تو اتنا کر لےاک ذرا دیر کو کمرے میں اندھیرا کر لےMunawwar Rana
- کبھی خوشی سے خوشی کی طرف نہیں دیکھاتمہارے بعد کسی کی طرف نہیں دیکھاMunawwar Rana
- کچھ کھلونے کبھی آنگن میں دکھائی دیتےکاش ہم بھی کسی بچے کو مٹھائی دیتےMunawwar Rana
- کسی غریب کی برسوں کی آرزو ہو جاؤںمیں اس سرنگ سے نکلوں تو آب جو ہو جاؤںMunawwar Rana
- کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئیمیں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئیMunawwar Rana
- گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیںلڑکیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیںMunawwar Rana