کبھی خوشی سے خوشی کی طرف نہیں دیکھا

Munawwar Rana

کبھی خوشی سے خوشی کی طرف نہیں دیکھا

تمہارے بعد کسی کی طرف نہیں دیکھا

یہ سوچ کر کہ ترا انتظار لازم ہے

تمام عمر گھڑی کی طرف نہیں دیکھا

یہاں تو جو بھی ہے آب رواں کا عاشق ہے

کسی نے خشک ندی کی طرف نہیں دیکھا

وہ جس کے واسطے پردیس جا رہا ہوں میں

بچھڑتے وقت اسی کی طرف نہیں دیکھا

نہ روک لے ہمیں روتا ہوا کوئی چہرہ

چلے تو مڑ کے گلی کی طرف نہیں دیکھا

بچھڑتے وقت بہت مطمئن تھے ہم دونوں

کسی نے مڑ کے کسی کی طرف نہیں دیکھا

روش بزرگوں کی شامل ہے میری گھٹی میں

ضرورتاً بھی سکھی کی طرف نہیں دیکھا