بلندی دیر تک کس شخص کے حصے میں رہتی ہے

Munawwar Rana

بلندی دیر تک کس شخص کے حصے میں رہتی ہے

بہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرے میں رہتی ہے

بہت جی چاہتا ہے قید جاں سے ہم نکل جائیں

تمہاری یاد بھی لیکن اسی ملبے میں رہتی ہے

یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا

میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے

امیری ریشم و کمخواب میں ننگی نظر آئی

غریبی شان سے اک ٹاٹ کے پردہ میں رہتی ہے

میں انساں ہوں بہک جانا مری فطرت میں شامل ہے

ہوا بھی اس کو چھو کر دیر تک نشے میں رہتی ہے

محبت میں پرکھنے جانچنے سے فائدہ کیا ہے

کمی تھوڑی بہت ہر ایک کے شجرے میں رہتی ہے

یہ اپنے آپ کو تقسیم کر لیتا ہے صوبوں میں

خرابی بس یہی ہر ملک کے نقشے میں رہتی ہے