کالے کپڑے نہیں پہنے ہیں تو اتنا کر لے
Munawwar Ranaکالے کپڑے نہیں پہنے ہیں تو اتنا کر لے
اک ذرا دیر کو کمرے میں اندھیرا کر لے
اب مجھے پار اتر جانے دے ایسا کر لے
ورنہ جو آئے سمجھ میں تری دریا کر لے
خودبخود راستہ دے دے گا یہ طوفان مجھے
تجھ کو پانے کا اگر دل یہ ارادہ کر لے
آج کا کام تجھے آج ہی کرنا ہوگا
کل جو کرنا ہے تو پھر آج تقاضا کر لے
اب بڑے لوگوں سے اچھائی کی امید نہ کر
کیسے ممکن ہے کریلا کوئی میٹھا کر لے
گر کبھی رونا ہی پڑ جائے تو اتنا رونا
آ کے برسات ترے سامنے توبہ کر لے
مدتوں بعد وہ آئے گا ہمارے گھر میں
پھر سے اے دل کسی امید کو زندہ کر لے
ہم سفر لیلیٰ بھی ہوگی میں تبھی جاؤں گا
مجھ پہ جتنے بھی ستم کرنے ہوں صحرا کر لے