محبت کے نشہ میں چھن چھنن کرتے ہوئے کنگن
Lankesh Gautam (b. 2003)محبت کے نشہ میں چھن چھنن کرتے ہوئے کنگن
ترے ہاتھوں میں آ کر اور بھی مہنگے ہوئے کنگن
بڑی مشکل سے اس کے باپ نے کنگن خریدے تھے
سہاگن تک رہی ہے دور سے بیچے ہوئے کنگن
بنا مرضی کے یہ زیور فقط بندھن برابر ہیں
نہیں جچتے کسی کے ہاتھ میں باندھے ہوئے کنگن
بھلے کچھ کر نہیں سکتا مگر یہ دکھ تو ہے مجھ کو
پرائے ہاتھ میں جاکر بہت میلے ہوئے کنگن
وہ اچھے سے سمجھتی تھی مرے گھر بار کی حالت
سو اس کے ہونٹ کن پہ رک گئے کہتے ہوئے کنگن
کسی نے طیش میں آکر ترے ہاتھوں کو جھٹکا تھا
مرے پاؤں میں چبھتے ہیں تیرے ٹوٹے ہوئے کنگن