دریا دلی سے ابر کرم بھی نہیں ملا

Munawwar Rana

دریا دلی سے ابر کرم بھی نہیں ملا

لیکن مجھے نصیب سے کم بھی نہیں ملا

پھر انگلیوں کو خوں میں ڈبونا پڑا ہمیں

جب ہم کو مانگنے پہ قلم بھی نہیں ملا

سچ بولنے کی راہ میں تنہا ہمیں ملے

اس راستے میں شیخ حرم بھی نہیں ملا

میں نے تو ساری عمر نبھائی ہے دوستی

وہ مجھ سے کھا کے میری قسم بھی نہیں ملا

دل کو خوشی بھی حد سے زیادہ نہیں ملی

کاسے کے اعتبار سے غم بھی نہیں ملا