Poetry
Poet
Meter
- مٹی میں ملا دے کہ جدا ہو نہیں سکتااب اس سے زیادہ میں ترا ہو نہیں سکتاMunawwar Rana
- مجھ کو گہرائی میں مٹی کی اتر جانا ہےزندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہےMunawwar Rana
- محفل میں آج مرثیہ خوانی ہی کیوں نہ ہوآنکھوں سے بہنے دیجیے پانی ہی کیوں نہ ہوMunawwar Rana
- مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گیماں کی آنکھیں چوم لیجے روشنی بڑھ جائے گیMunawwar Rana
- مسرتوں کے خزانے ہی کم نکلتے ہیںکسی بھی سینے کو کھولو تو غم نکلتے ہیںMunawwar Rana
- میں اس سے پہلے کہ بکھروں ادھر ادھر ہو جاؤںمجھے سنبھال لے ممکن ہے در بدر ہو جاؤںMunawwar Rana
- وہ بچھڑ کر بھی کہاں مجھ سے جدا ہوتا ہےریت پر اوس سے اک نام لکھا ہوتا ہےMunawwar Rana
- ہاں اجازت ہے اگر کوئی کہانی اور ہےان کٹوروں میں ابھی تھوڑا سا پانی اور ہےMunawwar Rana
- ہم کچھ ایسے ترے دیدار میں کھو جاتے ہیںجیسے بچے بھرے بازار میں کھو جاتے ہیںMunawwar Rana
- ہنستے ہوئے ماں باپ کی گالی نہیں کھاتےبچے ہیں تو کیوں شوق سے مٹی نہیں کھاتےMunawwar Rana
- یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہےاسی نے ہم کو تماشا بنا کے رکھا ہےMunawwar Rana
- یہ درویشوں کی بستی ہے یہاں ایسا نہیں ہوگالباس زندگی پھٹ جائے گا میلا نہیں ہوگاMunawwar Rana
- یہ سر بلند ہوتے ہی شانے سے کٹ گیامیں محترم ہوا تو زمانے سے کٹ گیاMunawwar Rana
- یہ ہجر کا رستہ ہے ڈھلانیں نہیں ہوتیںصحرا میں چراغوں کی دکانیں نہیں ہوتیںMunawwar Rana
- اس کی انگلیاں ہمیشہ سچ بولتی ہیںبڑا یقین تھا اسے اپنی انگلیوں پرMunawwar Rana
- اک بوسیدہ مسجد میںدیواروں محرابوں پرMunawwar Rana
- چہرے تمام دھندلے نظر آ رہے ہیں کیوںکیوں خواب رتجگوں کی حویلی میں دب گئےMunawwar Rana
- کل راتبارش سے جسمMunawwar Rana
- کیا ضروری ہے کہ ہم فون پہ باتیں بھی کریںکیا ضروری ہے کہ ہر لفظ مہکنے بھی لگےMunawwar Rana
- میرے اسکول مری یادوں کے پیکر سن لےمیں ترے واسطے روتا ہوں برابر سن لےMunawwar Rana
- اس کی بنائی ہوئی ہر تصویراخباروں کی خبر بن جاتی ہےMunawwar Rana
- اس کی ہر باتہر اشارےMunawwar Rana
- عمر کی ڈھلتی ہوئی دوپہر میںٹھنڈی ہوا کے جھونکے کا احساس بھیMunawwar Rana
- اب آپ کی مرضی ہے سنبھالیں نہ سنبھالیںخوشبو کی طرح آپ کے رومال میں ہم ہیںMunawwar Rana
- اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کروتم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کروMunawwar Rana
- ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگامیں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہےMunawwar Rana
- اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہےماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہےMunawwar Rana
- بچوں کی فیس ان کی کتابیں قلم دواتمیری غریب آنکھوں میں اسکول چبھ گیاMunawwar Rana
- برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگرماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہےMunawwar Rana
- بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہےرہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہو جاتے ہیںMunawwar Rana
- پھر کربلا کے بعد دکھائی نہیں دیاایسا کوئی بھی شخص کہ پیاسا کہیں جسےMunawwar Rana
- تمام جسم کو آنکھیں بنا کے راہ تکوتمام کھیل محبت میں انتظار کا ہےMunawwar Rana
- تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچوتمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہےMunawwar Rana
- تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتےہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیںMunawwar Rana
- تمہیں بھی نیند سی آنے لگی ہے تھک گئے ہم بھیچلو ہم آج یہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتے ہیںMunawwar Rana
- تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلکمجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگیMunawwar Rana
- جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہےماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہےMunawwar Rana
- چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہےمیں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہےMunawwar Rana
- دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکنماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہےMunawwar Rana
- دولت سے محبت تو نہیں تھی مجھے لیکنبچوں نے کھلونوں کی طرف دیکھ لیا تھاMunawwar Rana
- سگی بہنوں کا جو رشتہ ہے اردو اور ہندی میںکہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتاMunawwar Rana
- شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاںماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگاMunawwar Rana
- فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیںوہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیںMunawwar Rana
- کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھےکچھ اس نے بھی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھاMunawwar Rana
- کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گااگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون باندھے گاMunawwar Rana
- کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میںیہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہےMunawwar Rana
- کھلونوں کی دکانوں کی طرف سے آپ کیوں گزرےیہ بچے کی تمنا ہے یہ سمجھوتا نہیں کرتیMunawwar Rana
- کھلونوں کے لئے بچے ابھی تک جاگتے ہوں گےتجھے اے مفلسی کوئی بہانہ ڈھونڈ لینا ہےMunawwar Rana
- لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہےمیں اردو میں غزل کہتا ہوں ہندی مسکراتی ہےMunawwar Rana
- ماں خواب میں آ کر یہ بتا جاتی ہے ہر روزبوسیدہ سی اوڑھی ہوئی اس شال میں ہم ہیںMunawwar Rana