جراحتوں کی مہک ہے فضا کے دامن میں

Ehsan Nanparwi (b. 2010)

جراحتوں کی مہک ہے فضا کے دامن میں

ہزار پھول کھلے ہیں صبا کے دامن میں

ہے آج شدت احساس نارسائی کیوں

گداز دل تو بہت ہے دعا کے دامن میں

جہان آہ و فغاں بھی ہے آب گل نغمہ

فسون کوہ ندا ہے صدا کے دامن میں

گیا وہ قافلۂ نوبہار بھی لیکن

وہی ہے ذوق سفر نقش پا کے دامن میں

وہی جو طائر افلاک آشیاں تھا کبھی

تڑپ رہا ہے وہ بیم و رجا کے دامن میں