چھاؤں مل جائے تو کم دام میں بک جاتی ہے

Munawwar Rana

چھاؤں مل جائے تو کم دام میں بک جاتی ہے

اب تھکن تھوڑے سے آرام میں بک جاتی ہے

آپ کیا مجھ کو نوازیں گے جناب عالی

سلطنت تک مرے انعام میں بک جاتی ہے

شعر جیسا بھی ہو اس شہر میں پڑھ سکتے ہو

چائے جیسی بھی ہو آسام میں بک جاتی ہے

وہ سیاست کا علاقہ ہے ادھر مت جانا

آبرو کوچۂ بدنام میں بک جاتی ہے