صحرا پسند ہو کے سمٹنے لگا ہوں میں

Munawwar Rana

صحرا پسند ہو کے سمٹنے لگا ہوں میں

اندر سے لگ رہا ہے کہ بٹنے لگا ہوں میں

کیا پھر کسی سفر پہ نکلنا ہے اب مجھے

دیوار و در سے کیوں یہ لپٹنے لگا ہوں میں

آتے ہیں جیسے جیسے بچھڑنے کے دن قریب

لگتا ہے جیسے ریل سے کٹنے لگا ہوں میں

کیا مجھ میں احتجاج کی طاقت نہیں رہی

پیچھے کی سمت کس لیے ہٹنے لگا ہوں میں

پھر ساری عمر چاند نے رکھا مرا خیال

اک روز کہہ دیا تھا کہ گھٹنے لگا ہوں میں