خفا ہونا ذرا سی بات پر تلوار ہو جانا

Munawwar Rana

خفا ہونا ذرا سی بات پر تلوار ہو جانا

مگر پھر خود بہ خود وہ آپ کا گلنار ہو جانا

کسی دن میری رسوائی کا یہ کارن نہ بن جائے

تمہارا شہر سے جانا مرا بیمار ہو جانا

وہ اپنا جسم سارا سونپ دینا میری آنکھوں کو

مری پڑھنے کی کوشش آپ کا اخبار ہو جانا

کبھی جب آندھیاں چلتی ہیں ہم کو یاد آتا ہے

ہوا کا تیز چلنا آپ کا دیوار ہو جانا

بہت دشوار ہے میرے لیے اس کا تصور بھی

بہت آسان ہے اس کے لیے دشوار ہو جانا

کسی کی یاد آتی ہے تو یہ بھی یاد آتا ہے

کہیں چلنے کی ضد کرنا مرا تیار ہو جانا

کہانی کا یہ حصہ اب بھی کوئی خواب لگتا ہے

ترا سر پر بٹھا لینا مرا دستار ہو جانا

محبت اک نہ اک دن یہ ہنر تم کو سکھا دے گی

بغاوت پر اترنا اور خود مختار ہو جانا

نظر نیچی کیے اس کا گزرنا پاس سے میرے

ذرا سی دیر رکنا پھر صبا رفتار ہو جانا