کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی

Munawwar Rana

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

یہاں سے جانے والا لوٹ کر کوئی نہیں آیا

میں روتا رہ گیا لیکن نہ واپس جا کے ماں آئی

ادھورے راستے سے لوٹنا اچھا نہیں ہوتا

بلانے کے لیے دنیا بھی آئی تو کہاں آئی

کسی کو گاؤں سے پردیس لے جائے گی پھر شاید

اڑاتی ریل گاڑی ڈھیر سارا پھر دھواں آئی

مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری

تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی

قفس میں موسموں کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا

خدا جانے بہار آئی چمن میں یا خزاں آئی

گھروندے تو گھروندے ہیں چٹانیں ٹوٹ جاتی ہیں

اڑانے کے لیے آندھی اگر نام و نشاں آئی

کبھی اے خوش نصیبی میرے گھر کا رخ بھی کر لیتی

ادھر پہنچی ادھر پہنچی یہاں آئی وہاں آئی