کچھ کھلونے کبھی آنگن میں دکھائی دیتے

Munawwar Rana

کچھ کھلونے کبھی آنگن میں دکھائی دیتے

کاش ہم بھی کسی بچے کو مٹھائی دیتے

سونے پنگھٹ کا کوئی درد بھرا گیت تھے ہم

شہر کے شور میں کیا تجھ کو سنائی دیتے

کہیں بے نور نہ ہو جائیں وہ بوڑھی آنکھیں

گھر میں ڈرتے تھے خبر بھی مرے بھائی دیتے

ساتھ رہنے سے بھی کھل جاتے ہیں رشتوں کے کنول

بندشیں رونے لگیں مجھ کو رہائی دیتے

ان سسکتے ہوئے رشتوں کے کہاں تھے قائل

ورنہ ہم اور تجھے داغ جدائی دیتے

سسکیاں اس کی نہ دیکھی گئیں مجھ سے رعناؔ

رو پڑا میں بھی اسے پہلی کمائی دیتے