لہو کا ایک چھلکتا ہوا ایاغ لیے

Ehsan Nanparwi (b. 2010)

لہو کا ایک چھلکتا ہوا ایاغ لیے

حیات آئی ہے محرومیوں کا داغ لیے

گزر گئے ہیں یوں ہی جادۂ شباب سے ہم

فسردہ ذہن لیے غم زدہ دماغ لیے

ہر اک جبیں پہ تموج ہے سوزش دل کا

ہر اک نگاہ ہے یک حسرت فراغ لیے

چلے ہیں ظلمت و ہر سیل باد کی زد پر

جنوں صفات بھڑکتے ہوئے چراغ لیے