لائی تھی خلوت سے دل کی نا شکیبائی مجھے
Ehsan Nanparwi (b. 2010)لائی تھی خلوت سے دل کی نا شکیبائی مجھے
بزم میں بھی ہے وہی احساس تنہائی مجھے
لذت زخم تمنا سے ہوں سرگرم سفر
ورنہ کب منظور تھی یہ جادہ پیمائی مجھے
منظر بربادیٔ دل پر تو نم دیدہ تھا میں
لوگ دکھلاتے رہے چہروں کی زیبائی مجھے
سن رہا ہوں دیر سے اپنی صدائے بازگشت
آرزو کا شہر ہے صحرائے تنہائی مجھے
زندگی کے دشت و در میں آرزو کی راہ سے
لے گئی دار و رسن تک آبلہ پائی مجھے